قومی اسمبلی میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 سمیت کئی بلز کثرت رائے سے منظور

02:28 PM, 16 May, 2025

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں مختلف اہم شعبہ جات سے متعلق متعدد بلز اور قراردادیں کثرت رائے سے منظور کر لی گئیں، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ان تمام بلز کی مخالفت کی۔

اجلاس میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 کو کثرت رائے سے منظور کیا گیا، جو ملک کے ٹیکس نظام میں اہم تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔ اس کے ساتھ ہی چائلڈ میرج پر پابندی کا بل بھی منظور کر لیا گیا، جو پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پیش کیا تھا، اور جس کا مقصد کم عمری کی شادیوں کی روک تھام ہے۔

رکن قومی اسمبلی فرح ناز اکبر نے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) ترمیمی بل 2024 پیش کیا، جس کی شق 3، 4 اور 6 میں ترامیم کی گئیں۔ یہ ترامیم وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئیں اور انہیں بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

مزید برآں، اسمبلی سے تحویل ملزمان ترمیمی بل 2025، عطائے شہریت ترمیمی بل 2024، سول سرونٹ ترمیمی بل 2025، انسداد اغراق و محصولات ترمیمی بل 2025 بھی منظور کیے گئے۔ پاکستان شہریت ایکٹ میں ترامیم کے تحت سیکشن 14اے اور سیکشن 4 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2025، جو رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی نے پیش کیا، اور قومی اسمبلی رول 288 میں ترمیم بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ اس کے علاوہ، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا پیش کردہ نیچرلائزیشن ترمیمی بل 2024 اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال کا پیش کردہ اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 بھی ایوان سے منظور ہو گئے۔

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی رکن نوشین افتخار کی جانب سے پیش کردہ سی ایس ایس امتحانات میں عمر کی حد بڑھانے کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی، جس کے تحت عمر کی حد 30 سال سے بڑھا کر 35 سال کرنے اور امیدواروں کو پانچ بار امتحان دینے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

مزیدخبریں