اسلام آباد: یومِ تشکر کے موقع پر سینیٹ آف پاکستان کے اجلاس میں ارکانِ سینیٹ نے افواجِ پاکستان کی بہادری، پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور دشمن کے خلاف جرات مندانہ کارروائیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایوان بالا میں قومی یکجہتی، سیاسی اتحاد اور اقلیتوں کے تحفظ کا بھرپور اظہار کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پاکستان کو اپنے دوست ممالک، افواج اور میڈیا پر فخر ہے جنہوں نے ہر محاذ پر دشمن کا موثر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو رافیل طیاروں اور مہنگے ہتھیاروں پر بڑا ناز تھا، مگر پاکستانی فضائیہ نے ایک ہی رات میں اُس غرور کو خاک میں ملا دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، بھارت کی طرح شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا، ہماری قوم ایک ہے اور کوئی طاقت ہمیں تقسیم نہیں کر سکتی۔ سینیٹر دنیش کمار نے جنگ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے لیے سینیٹ فنڈ کے قیام کی تجویز دی اور خود 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھا، جبکہ بھارت اپنے اندر اقلیتوں اور حتیٰ کہ حاضر سروس فوجیوں کی تذلیل کر رہا ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ حالیہ واقعات کے دوران حکومت اور اپوزیشن مکمل طور پر ایک پیج پر رہے، جو ایک خوش آئند پہلو ہے۔ انہوں نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی پالیسیوں سے اس کے تمام ہمسایہ ممالک نالاں ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شفاف تحقیقات کی پیشکش کو بھی دہرایا۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مودی کا خواب تھا کہ وہ خطے کو غیر مستحکم کرے، مگر ہماری افواج نے اس خواب کو مٹی میں ملا دیا۔ سینیٹر جام سیف اللہ خان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ وزیراعظم نے افواجِ پاکستان کو بھرپور اختیارات دیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب ملا۔ سینیٹر عون عباس بپی نے 10 مئی کو یومِ اتحاد قرار دیتے ہوئے دوست ممالک، خصوصاً چین، ترکیہ اور آذربائیجان کے تعاون کو سراہا۔ سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن دشمن کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے قومی سلامتی کے لیے ہمہ وقت چوکنا رہنے پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر ایوان بالا نے ایک واضح پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ اس کے عوام اور ادارے ہر نازک لمحے میں یک جان ہو جاتے ہیں۔ سینیٹ کا اجلاس پیر کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔