نیویارک: بھارت کی جانب سے روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی بحریہ نے متعدد روہنگیا پناہ گزینوں کو سمندر میں پھینک دیا، جس کے بعد اقوام متحدہ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی نیوی کے جہاز سے میانمار کے ساحل کے قریب روہنگیا پناہ گزینوں کو سمندر میں دھکیل دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بھارتی حکام کی اس کارروائی پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے، ٹام اینڈریوز نے بھارتی بحریہ کی کارروائی کو "ناقابل قبول" اور "غیر انسانی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ ایسے غیر اخلاقی سلوک سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ افراد پہلے ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پرتشدد حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
رپورٹس کے مطابق، بھارتی حکام نے دہلی میں مقیم کئی روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتار کیا، جن میں سے اکثر کے پاس قانونی طور پر پناہ گزینی کے دستاویزات بھی موجود تھے۔ ان افراد کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر انڈیمان اور نکوبار جزائر بھیجا گیا، جہاں انہیں بھارتی بحریہ کے جہاز پر سوار کر لیا گیا۔ اس کے بعد، جب جہاز نے بحر انڈیمان عبور کیا، تو انہیں لائف جیکٹس پہننے کے بعد سمندر میں دھکیل دیا گیا۔ یہ پناہ گزین تیر کر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن اب تک ان کی حالت اور ان کے مقامات کا کوئی علم نہیں ہو سکا۔
اس کے علاوہ، بھارتی ریاست آسام میں تقریباً 100 روہنگیا پناہ گزینوں کو حراستی مرکز سے نکال کر بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب بھیجا گیا، تاہم ان کے حوالے سے بھی کوئی تازہ معلومات نہیں مل سکیں۔
اقوام متحدہ نے بھارتی حکام کے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے اور فوری طور پر اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ عالمی برادری نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کے حقوق کا احترام کرے اور انہیں غیر انسانی سلوک سے بچائے۔