نیویارک/لندن: عالمی منڈی میں معاشی بے یقینی کے سائے گہرے ہو گئے، جہاں عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے اس دوہرے دباؤ نے سرمایہ کاروں اور عام صارفین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں سست ہونے کے باوجود تیل کی مانگ اور قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ تازہ ترین کاروباری سیشن کے دوران برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.5 ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب، امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 4 ڈالر مہنگا ہو کر 105 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی اور دوسری طرف توانائی کی قیمتوں میں اس اچانک ہائی جمپ سے عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں بھاری اضافہ ہوگا۔ قیمتوں میں اس شدید اتار چڑھاؤ کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے، جس سے عام صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔