ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر تسلط کی جنگ میں ایک نیا پینترا سامنے آیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار فواد احمد نے اپنے حالیہ وی لاگ میں ایک تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اس وقت کسی روایتی بحری بیڑے کے بغیر بھی امریکہ جیسی سپر پاور کو عالمی گزرگاہ میں روکنے میں کامیاب ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے ایران کا وہ خفیہ اور تباہ کن ہتھیار ہے جسے عسکری اصطلاح میں 'مچھر فورس' (Mosquito Fleet) یا مچھر بیڑا کہا جاتا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق، دنیا اس وقت ایران کے ڈرون پروگرام سے تو واقف ہے، لیکن سمندر کے اندر ایران کی حکمتِ عملی ڈرونز سے بھی آگے نکل چکی ہے، جہاں وہ گوریلا جنگی تکنیک کے ذریعے آبنائے ہرمز پر اپنی مرضی کا قانون نافذ کرنا چاہتا ہے۔سینئر تجزیہ کار فواد احمد کی رپورٹ کے مطابق، 'مچھر فورس' اصل میں تیز رفتار، چھوٹی اور خطرناک جنگی کشتیوں کا ایک بہت بڑا گروپ ہے۔ امریکہ کے پاس دنیا کے جدید ترین اور بڑے بحری جہاز موجود ہیں، لیکن جب ایران کی سینکڑوں چھوٹی کشتیاں ایک ساتھ ان کی طرف بڑھتی ہیں، تو امریکی ریڈارز یہ سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں کہ ارد گرد کے ماحول میں کیا ہو رہا ہے۔
یہ کشتیاں حجم میں چھوٹی اور پانی میں بہت نیچی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں دور سے دیکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ان کی نگرانی کے لیے امریکہ کو مسلسل ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز فضا میں رکھنے پڑتے ہیں۔ ان بظاہر عام سی دکھنے والی کشتیوں پر مشین گنز، راکٹس اور اینٹی شپ میزائل نصب ہیں۔ ان میں سے کئی کشتیاں مقامی طور پر تیار کی گئی ہیں جبکہ کچھ عام ماہی گیری کی کشتیوں کو جنگی سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد کاکہنا ہے کہ ایران اس حکمتِ عملی پر گزشتہ 40 سے 45 برسوں سے کام کر رہا ہے۔ اس مچھر بیڑے کی بنیاد 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران ہونے والی مشہور 'ٹینکر جنگ' میں رکھی گئی تھی۔ اس وقت امریکی بحریہ کے ساتھ جھڑپوں میں ایران کی روایتی اور بھاری عسکری بحریہ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
اس نقصان سے سبق سیکھتے ہوئے، ایران نے اپنی جنگی پالیسی بدلی اور بھاری جہازوں کے بجائے 'غیر متناسب جنگ' یعنی گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ یہ مچھر بیڑا اب ایران کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس میں ڈرونز، بارودی سرنگیں اور خطے میں موجود اس کی اتحادی تنظیمیں شامل ہیں۔
سینئر تجزیہ کار فواد احمد کاکہنا ہےکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اچھی طرح جانتی ہے کہ وہ کھلے سمندر میں امریکی بحریہ سے آمنے سامنے کا تصادم نہیں جیت سکتے، اس لیے وہ اس سے گریز کرتے ہیں۔ ایران کا اصل مقصد واشنگٹن پر شدید نفسیاتی اور اقتصادی دباؤ ڈالنا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کمرشل آئل ٹینکرز کو نشانہ بنا کر اور مال بردار کمپنیوں کے لیے خطرات اور اخراجات میں اضافہ کر کے، ایران امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ تہران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگی پالیسی ترک کرے، ورنہ عالمی معیشت کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔