اسلام آباد: وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مبینہ نااہلی اور ناکامیوں کا بوجھ ایک بار پھر غریب عوام پر ڈالنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے بعد آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں عوام پر مہنگائی کا نیا بم گرنے کا شدید خدشہ ہے۔
نمائندہ نیو نیوز اسلام آباد توصیف عباسی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ جون 2027 تک ٹیکس وصولی کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ایندھن اور توانائی کی قیمتیں ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہیں۔ بجٹ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف دیا گیا ہے، جو رواں سال کے مقابلے میں 260 ارب روپے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی (GST) کی مد میں بھی اضافی 2 ہزار ارب روپے جمع کرنے کا ہدف عائد کیا ہے۔
عوام کو نچوڑنے کے لیے ایف بی آر نے 430 ارب روپے کا اضافی پلان تیار کیا ہے، جس کے تحت 215 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے جبکہ باقی 215 ارب روپے سخت نگرانی اور آڈٹ کے ذریعے وصول کیے جائیں گے۔ وفاق کے ساتھ ساتھ چاروں صوبے بھی عوام پر 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔حیران کن طور پر، حکومت معیشت میں 25 فیصد حصہ رکھنے والے زرعی شعبے سے ٹیکس وصول کرنے میں تاحال ناکام ہے، جہاں سے کل ٹیکس وصولی صرف 0.3 فیصد ہے۔ زرعی اور بااثر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے کسی ایک شعبے کو ریلیف دینے کے لیے دوسرے سیکٹرز پر اضافی بوجھ ڈالنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ملک میں مہنگائی پہلے ہی ڈبل ڈیجٹ میں برقرار ہے اور ان نئے اقدامات کے بعد آئندہ مالی سال میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا مزید محال ہونے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف کا دباؤ: نئے بجٹ میں عوام پر اربوں روپے کے اضافی ٹیکسوں اور پٹرول مہنگا کرنے کی تیاری
06:27 PM, 16 May, 2026