ٹرمپ کے دورے کے بعد چین کا امریکا سے طیاروں اور انجنز کی خریداری کا اعلان

09:53 PM, 16 May, 2026

بیجنگ: چین کی وزارتِ تجارت نے تصدیق کی ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان طیاروں، جیٹ انجنز اور متعلقہ پرزہ جات کی خرید و فروخت کے حوالے سے اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ چین امریکا سے طیارے خریدے گا جبکہ امریکا کی جانب سے طیاروں کے انجنز اور دیگر پرزہ جات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ساتھ ہی دونوں فریقین نے متعلقہ شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ معاہدے کے تحت چین کم از کم 200 طیارے امریکی کمپنی بوئنگ سے خریدے گا، جبکہ تقریباً 450 طیاروں کے انجن جنرل الیکٹرک سے حاصل کیے جائیں گے۔

بوئنگ کمپنی نے بھی اپنے مختصر بیان میں معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ کاروباری تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور ابتدائی طور پر 200 طیاروں کی خریداری پر اتفاق کیا گیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق حکام نے معاہدے کی حتمی مالیت یا طیاروں کی مکمل تعداد کی تصدیق نہیں کی، تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بڑھ کر 750 طیاروں تک بھی جا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت امریکی صدر کے حالیہ چین کے دورے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان بھی ان کے ہمراہ تھے اور انہوں نے چینی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

چینی میڈیا کے مطابق اگر یہ ابتدائی 200 طیاروں کا معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ 2017 کے بعد چین کی جانب سے بوئنگ کے لیے سب سے بڑا آرڈر ہوگا، جب ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران 300 طیاروں کا معاہدہ تقریباً 37 ارب ڈالر میں طے پایا تھا۔
 

مزیدخبریں