ملکی استحکام کیلئے مزید آئینی ترمیم لائی جا سکتی ہے، طلال چوہدری

05:05 PM, 16 Nov, 2025

فیصل آباد: وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد ملک میں سیاسی و آئینی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر ایک اور آئینی ترمیم بھی لا سکتا ہے۔ وہ فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، یہ بیان 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے تین روز بعد سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد 27ویں ترمیم قانون کا حصہ بن چکی ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس ترمیم کی سخت مخالفت کی تھی۔ طلال چوہدری کے مطابق 26ویں اور 27ویں ترامیم نے ملک کو استحکام دیا ہے، اور اگر مزید استحکام کے لیے ایک اور ترمیم درکار ہوئی تو حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسے ضرور لائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ جب چاہے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے اور یہی اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق "پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ ہی نظر آنا چاہیے"۔

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حالیہ استعفوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے انہیں "سیاسی" قرار دیا۔ 27ویں ترمیم کے نافذ ہونے کے روز سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفے دیتے ہوئے ترمیم کو آئین پر "حملہ" قرار دیا تھا، جب کہ اگلے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی مزید استعفوں کا امکان ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ آئین میں ترمیم پارلیمنٹ کا حق ہے اور جج خواہش یا ناراضی کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کے اختیارات اور مراعات سمیت تمام معاملات پارلیمنٹ طے کرتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ازخود نوٹس کے بے جا استعمال نے سیاسی عدم استحکام پیدا کیا، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا گیا اور حکومتوں پر دباؤ ڈالا گیا، جسے 27ویں ترمیم کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے فیصل آباد میں 23 نومبر کے ضمنی انتخاب کے بائیکاٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پارٹی وہاں انتخاب نہیں لڑنا چاہتی جہاں اسے سخت مقابلے کا سامنا ہو۔

مزیدخبریں