اسلام آباد:وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیرداخلہ محسن نقوی، اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ مذاکرات احتجاج شروع ہونے سے لے کر آخری لمحے تک جاری رہے، مگر تنظیم کی جانب سے مسلسل غیرلچکدار رویہ اور دہشتگردوں کی رہائی جیسے ناقابل قبول مطالبات سامنے آئے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد فلسطینی عوام نے خود خوشی کا اظہار کیا، مگر پاکستان میں اس معاملے کو جواز بنا کر ٹی ایل پی نے اسلحہ اٹھایا اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے جماعت اسلامی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی بڑی تعداد میں باہر نکلی مگر پُرامن رہی، اس کے برعکس جب کوئی تنظیم زبردستی اپنی مرضی مسلط کرنا چاہے تو معاملات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔
محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ ٹی ایل پی کی اعلیٰ قیادت ڈھائی بجے شب تک مذاکرات کرتی رہی، اور حکومت نے ہر بار ان سے کہا کہ "پرامن طور پر واپس چلے جائیں، کوئی کارروائی نہیں ہو گی" مگر ہر بار ان کے مطالبات مزید سخت ہوتے گئے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کو رہا کیا جائے کیا یہ احتجاج فلسطین کے لیے تھا یا دہشتگردوں کے حق میں؟۔وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ صرف ان افراد کے خلاف کارروائی ہوئی جنہوں نے ہتھیار اٹھائے یا فائرنگ کی، جبکہ علما، مدارس یا کسی مذہبی ادارے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر پاکستانی حکومت نے بھرپور کردار ادا کیا، اور آج فلسطینی عوام خود جشن منا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی جتھہ پاکستان میں ہنگامہ آرائی کرے تو ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کرے۔
انہوں نے کہا کہ کل جمعہ کے خطبے میں علمائے کرام سے اپیل ہے کہ وہ فلسطین میں امن کے قیام پر اللہ کا شکر ادا کریں اور عوام کو مثبت پیغام دیں۔