کیلیفورنیا: اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے حوالے سے اپنی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق شائع کر دی ہے، جس میں مئی 2024 سے جولائی 2025 کے دوران ہونے والی 15 لاکھ گفتگوؤں کا تجزیہ شامل ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ معاشیات ڈیوڈ ڈیمِنگ کی شرکت سے تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی اب محض ایک ورک پلیس ٹول نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی پر ہونے والی 73 فیصد گفتگو ذاتی نوعیت کی تھی، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ صارفین اس پلیٹ فارم کو معلومات حاصل کرنے، تحریری مدد، ای میل ڈرافٹ کرنے، ذاتی اظہار اور تخلیقی کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ابتدائی دنوں میں صارفین کا 80 فیصد حصہ مرد تھا، لیکن 2025 کے وسط تک خواتین صارفین کی تعداد بڑھ کر 52 فیصد ہو گئی ہے۔ خواتین زیادہ تر تحریری مدد اور عملی رہنمائی کے لیے رجوع کرتی ہیں، جبکہ مرد تکنیکی معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ترقی پذیر ممالک میں چیٹ جی پی ٹی کو اپنانے کی رفتار تیز ہے، جہاں اس ٹیکنالوجی کا استعمال امیر ممالک کے مقابلے چار گنا زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو اس کے عالمی سطح پر روزمرہ زندگی میں شامل ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق جون 2025 تک چیٹ جی پی ٹی پر 73 فیصد گفتگو ذاتی نوعیت کی تھی، جبکہ یہ شرح ایک سال قبل 50 فیصد تھی۔ صارفین کی گفتگو تین اہم زمروں میں تقسیم ہوتی ہے: 49 فیصد معلومات اور رہنمائی، 40 فیصد عملی کام جیسے ای میل یا منصوبہ بندی، اور 11 فیصد تخلیقی تحریر یا ذاتی بات چیت۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اب صرف ایک ٹیکنالوجی کا شوق نہیں بلکہ صارفین کے لیے روزمرہ کا مددگار بن چکا ہے۔