مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

09:58 AM, 16 Sep, 2026

 راولپنڈی: ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں جارحیت یا کسی ملک کے خلاف کارروائی کا کوئی عنصر شامل نہیں۔

 العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معاہدے کا مقصد رکن ممالک کا مشترکہ دفاع ہے، یہ کسی دوسرے ملک یا اتحاد کے خلاف نہیں۔ کسی ایک رکن پر حملے کی صورت میں ردعمل کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو مزید باضابطہ شکل دے رہا ہے، جبکہ مکہ معاہدہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد خطے میں امن برقرار رکھنا اور تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔ پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور اسلام آباد اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم سمجھتا ہے۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تنازعات کو فضائی، زمینی یا بحری محاذوں پر حل کرنے کے بجائے ان کے پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے۔ تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔
 افغانستان سے ہونے والے حملوں کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور پاکستان اپنے شہریوں کی جان، عزت اور مال کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مزید کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ رواں سال ملک بھر میں 42 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جاچکے ہیں، جبکہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

مزیدخبریں