دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ٹیرر کرائم نیٹ ورک کا خاتمہ ضروری ہے: طلال چودھری

02:10 PM, 16 Sep, 2026

اسلام آباد: وزیرمملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 200 کے قریب کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

 نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، جبکہ افغان ٹیرر کرائم نیٹ ورک دہشت گردوں کو کارروائیوں میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو بیرونی قوتوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

 وزیرمملکت نے کہا کہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک منشیات، اسلحے، پٹرول اور گاڑیوں کی اسمگلنگ سمیت مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ غیر قانونی کاروبار اس نیٹ ورک کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔

 طلال چودھری کے مطابق ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ضیا نامی شخص کو گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر گزشتہ 10 سال سے اسلحے کی فراہمی میں ملوث تھا۔ ان کے مطابق ضیا کے افغانستان سے اسلحہ بھیجنے والے زرشاد سمیت مختلف افراد سے روابط تھے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں سے دہشت گردی کے چیلنجز درپیش ہیں۔ جب تک ٹیرر کرائم نیٹ ورک کو نہیں توڑا جائے گا، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

 وزیرمملکت نے آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا، جبکہ کمیٹی پر آزاد کشمیر کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

 طلال چودھری نے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو میں 20 سے زائد نکات شامل ہیں اور ٹیرر کرائم نیٹ ورک کا خاتمہ اس کا اہم حصہ ہے۔ وزیر داخلہ اس ڈرائیو کا ماہانہ جائزہ لیتے ہیں جبکہ وزیراعظم ہر تین سے چار ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے پاکستان تک مختلف افراد کو گرفتار کرکے شواہد برآمد کیے گئے ہیں۔ ریاست کے بھی حقوق ہیں اور جب تک دہشت گردی و جرائم میں ملوث عناصر کو سزائیں نہیں ملیں گی، ملک میں پائیدار امن و امان قائم نہیں ہو سکتا۔

مزیدخبریں