ایران،امریکہ مذاکرات کا فیصلہ کن مرحلہ؛ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات

09:17 AM, 17 Apr, 2026

اسلام آباد: پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی جنگ بندی مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے بے مثال انتظامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان انتہائی حساس سفارتی سرگرمیوں کو فول پروف بنانے کے لیے جڑواں شہروں میں نقل و حمل پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
حکام کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی پلان کے مطابق دیگر اضلاع سے جڑواں شہروں میں داخل ہونے والی ہر قسم کی عوامی اور نجی ٹریفک پر پابندی ہوگی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ ٹورازم سروسز اور رینٹ اے کار کے کاروبار کو بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی خدشات کا مؤثر تدارک کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں، اہم سرکاری تنصیبات اور سفارتی انکلیو کے گرد اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ عالمی مندوبین کی آمد و رفت کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔
اسی دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو "عظیم انسان" قرار دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو وہ خود پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، جس سے ان مذاکرات کی عالمی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں