تہران / اسلام آباد: پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے ہیں۔ ایران نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ خطے میں حالیہ جنگ بندی اور مصالحتی عمل برادر ملک پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال اور پاک-ایران سرحدی انتظام سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاخطے میں جنگ بندی کا قیام صرف برادر ملک پاکستان کی کامیاب ثالثی سے ممکن ہوا ہے۔ ایران، پاکستان کے اس مخلصانہ اور مثبت کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گا جس نے ایک بڑے بحران کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت عالمی سطح پر امن کے لیے سرگرم ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کیں، جنہیں آئی ایس پی آر نے "سفارتی ثالثی کے مشن" کا حصہ قرار دیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کے معاملات طے پا گئے ہیں اور انہوں نے اس کامیابی کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمتِ عملی کے سر باندھا ہے۔
سفارتی محاذ پر پاکستان کی تاریخی فتح: ایرانی وزیر داخلہ کا جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی ثالثی کا باضابطہ اعتراف
10:43 AM, 17 Apr, 2026