نئی دہلی / واشنگٹن: بھارت کی جانب سے دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹی جانے والی "آزاد خارجہ پالیسی" کا پول کھل گیا ہے۔ مودی سرکار نے امریکی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جس کے باعث بھارتی عوام ایک نئی معاشی مصیبت کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا ادارے "این ڈی ٹی وی" (NDTV) کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے بھارت کو روسی تیل کی خریداری کے لیے دی گئی پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اچانک فیصلے نے بھارتی حکومت اور تیل کمپنیوں کے ہوش اڑا دیے ہیں کیونکہ بھارتی ریفائنریوں نے پہلے ہی 3 کروڑ بیرل روسی تیل کے بڑے آرڈرز دے رکھے ہیں، جن کی ترسیل اب خطرے میں پڑ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے واشنگٹن کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ثابت کر دیا ہے کہ اس کے لیے عوامی مفاد سے زیادہ امریکی خوشنودی اہم ہے۔ سستے روسی تیل کی بندش سے بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خدشہ ہے، جس کا براہِ راست اثر غریب عوام پر پڑے گا۔ 3 کروڑ بیرل کے آرڈرز کا پھنس جانا بھارتی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
یہ صورتحال بھارتی حکومت کے ان بلند بانگ دعوؤں کی نفی کرتی ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دباؤ نے مودی سرکار کو اپنے ہی کیے ہوئے معاشی فیصلوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی دباؤ کے سامنے مودی سرکار ڈھیر: بھارت کی نام نہاد ’آزاد خارجہ پالیسی‘ بے نقاب
02:20 PM, 17 Apr, 2026