پشاور: خیبر پختونخوا میں قیامت صغریٰ کا منظر، بادل پھٹنے، آسمانی بجلی گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے پورا صوبہ لرز اُٹھا۔ سیلابی ریلوں اور ملبے نے کئی علاقوں کو تہس نہس کر دیا۔ رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، جبکہ مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں اب تک 313 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں 263 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں۔ بونیر میں اب تک 208 افراد جاں بحق اور 180 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
بونیر کے ایک علاقے میں سیلابی ریلے نے ایک ہی خاندان کے 22 افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ لوئر دیر کے نواحی علاقے سوری پاؤ میں بھی ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی جان چلی گئی۔
پیر بابا کے علاقے میں 200 افراد لاپتہ ہیں، اور ان کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
باجوڑ میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔