واشنگٹن ڈی سی میں سکھ برادری کا خالصتان ریفرنڈم، جمہوری حقوق کے دفاع کی جدوجہد

08:52 AM, 17 Aug, 2025

واشنگٹن: سکھ برادری آج امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کرے گی۔ اس موقع پر امریکہ میں مقیم سکھ بڑی تعداد میں شرکت کریں گے تاکہ وہ اپنے جمہوری حقوق کا اظہار کر سکیں۔

امریکی حکام نے سکھوں کے جمہوری حقوق کا دفاع کرتے ہوئے اس ریفرنڈم کی اجازت دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خالصتان موومنٹ کے رہنما گرپتونت پنہوں کو سکیورٹی کی گارنٹی بھی فراہم کی ہے۔

کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا نے بھارتی خفیہ نیٹ ورکوں کو بے نقاب کرتے ہوئے سکھ کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے، جبکہ امریکی عدالت نے بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور را افسر کو خالصتان رہنما گرپتونت پنہوں کے قتل کی سازش پر ملک بدر کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ خالصتان ریفرنڈم کا سلسلہ 2021 میں شروع ہوا تھا، اور اب تک 8 ممالک میں کامیابی سے منعقد ہو چکا ہے۔ بھارتی پروپیگنڈے کے برعکس، بین الاقوامی قوانین کے تحت سکھ برادری کی پرامن جدوجہد جاری ہے۔

خالصتان تحریک دنیا بھر میں بسنے والے 3 کروڑ سکھوں کی سیاسی جدوجہد ہے، اور اس تحریک کو اب تک کسی بھی اقوام متحدہ کے رکن ملک نے غیر قانونی قرار نہیں دیا۔

سکھ برادری کا پیغام واضح ہے: "ہم بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق کے لیے پرامن طریقے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔"

مزیدخبریں