بجلی چوری میں معمولی کمی، قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان برقرار

06:28 PM, 17 Aug, 2025

اسلام آباد: بجلی چوری اور سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کے باعث ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی نہ آ سکی ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ تاہم، وفاقی حکومت نے بجلی وصولیوں کے نقصانات کو کم کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی چوری اور تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی سے ہونے والے نقصانات میں صرف 11 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ مالی سال 24-2023 میں 276 ارب روپے سے گھٹ کر مالی سال 25-2024 میں 265 ارب روپے تک محدود رہی۔

دوسری جانب، حکومت نے بجلی وصولیوں میں نقصانات کو 183 ارب روپے کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں بجلی وصولیوں کے نقصانات 315 ارب روپے تھے جو مالی سال 25-2024 میں 132 ارب روپے تک کم ہو گئے۔

پاور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں مالی سال 24-2023 کے 591 ارب روپے سے کمی آ کر مالی سال 25-2024 میں 397 ارب روپے ہو گئی ہے، یعنی سالانہ 194 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بجلی چوری اور تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث نقصانات کم کرنے میں ابھی کافی دشواریاں باقی ہیں، جس کی وجہ سے بجلی کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ مالی سال کے دوران شبہاز حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 12 پیسے فی یونٹ تک اضافہ کیا تھا تاکہ خسارے میں کمی کی جا سکے۔

مزیدخبریں