نئے صوبے؛ ایک بحث، کئی آرا

01:22 PM, 17 Aug, 2026

تحریر: طارق وسیم

آج کل جسے دیکھو نئے صوبے بنانے  کی بات کررہا ہے،ہر شخص کی اس معاملے پر اپنی رائے ہے ۔عمومی جائزہ لیا جائے تو اس  معاملے  پر   مختلف آرا موجود ہیں ،ایک طبقے کا کہنا ہے کہ ملک کے 32 انتظامی ڈویژنز کو 32 صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے ۔ دوسری رائے  کے مطابق  نئے صوبے  لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر بننے چا ہیئں۔تیسری  رائے یہ ہے کہ  نئے صوبے بنانے کے بجائے مقامی  ، حکومتوں کا نظام  بحال اور فعال کیا جائے  ۔
آئیے ان تینوں آرا کا  جائزہ لے لیتے ہیں ،سب سے پہلے بات کرتے ہیں مقامی حکومتوں کے نظام کی ،دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کا نظام جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،لوگوں کو ان کے مسائل کے حل کے لیے گھر کی دہلیز پر سہولیات  پہنچانا، اس نظام کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے ،مقامی حکومتوں میں  عوام علاقائی ترقیاتی کاموں کے لیے اپنے نمائندے  منتخب کرتے ہیں،جبکہ فنڈز کا ایک حصہ ان کاموں کے لیے نچلی سطح پر مختص کر دیا جاتا ہے ،اس نظام کے بے حد فائدے ہیں ، یہ جمہوریت کی نرسری ہوتا ہے، یہیں سے مستقبل کے قومی رہنما نکلتے ہیں اور سیاسی زرخیزی کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ آپ کو اس نظام کے زیادہ تر حمایتی ایسے لوگ ملیں گے جو مشکل  اور بڑی سیاست سے بھاگتے ہیں ، اور دو چار سو لوگوں سے ووٹ  مانگنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ،ان میں سے زیادہ تر کو عوام سے قطعی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی بلکہ ان فنڈز پر نظر ہوتی ہے، جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے ان کو دیے جاتے ہیں۔ 
پاکستان میں بلدیاتی نظام کی یہی تاریخ ہے اور یہی حققت، لیکن بہر حال اس نظام کو بحال ہونا چاہیے  اور منتخب عوامی نمائندوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے ،اگر بار بار الیکشن ہوتے رہیں اور سسٹم چلتا رہے تو نظام خود ہی بہتر ہوجائے گااورشفافیت بڑھنے لگے گی، لیکن  یہ نظام صوبائی خود مختاری کا  نعم البدل نہیں ہو سکتا کیونکہ ،مقامی اسمبلی پالیسیاں بنانے  کے لیے نہیں   ہوتی۔ 
دوسرا نظام جس کے بارے میں بہت بات کی جا رہی ہے وہ ہے  32 انتظامی ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کرنے کا فارمولہ ،یہ آئیڈیا بہت اچھا ہے لیکن یاد رہے کہ یہ  کسی طور  بھی سیاسی سوچ کے حامل لوگوں کی رائے نہیں بلکہ، بیورو کریسی کی روایتی محدود ذہنیت کی اختراع ہے ،انتظامی بنیادوں پرنئے صوبے بننے سے وفاق پر بوجھ کم ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عوام کے بنیادی مسائل کا حل ممکن  نہیں ،آپ انتظامی ڈویژنز بنا دیں چند ماہ بعد ہی لوگ اپنی پہچان کا مطالبہ کرنا شروع کر دیں گے۔
تیسری رائے  ہے لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر صوبوں  کے قیام کی ،یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور غور طلب معاملہ ہے، جس میں ہر علاقے  کے لوگوں کی رائے لینے کے ساتھ ساتھ حکومتی ڈھانچے میں ایسے لوگوں کی موجودگی بھی ضروری ہے جو لسان اور ثقافت کو سمجھتے ہوں ،یہ ایک وقت طلب معاملہ ہے ،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتظامی  بنیادوں پر بننے والے صوبوں میں اختیارات کی تقسیم کیسے ہوگی ۔مثال کے طور پر کراچی اگر علیحدہ صوبہ بنتا ہے تو  وہاں کا نمائندہ کون ہوگا ؟اردو بولنے والے کراچی کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں ،ان کی آبادی بھی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے لیکن  دیگر قومیں جو کراچی میں آباد ہیں  ان کی تعداد بھی اب اردو بولنے والوں کے برابر ہی ہے یا کچھ کم ہوگی ، کراچی کوانتظامی بنیادوں پر  علیحدہ صوبہ بنانے  کے بعد وہاں شناخت کی جنگ شروع ہوجا ئے گی اور صوبے کے کئی دعویدار سامنے آجائیں گے اور ایسا ہی  دیگر نئے صوبوں میں بھی ہوگا۔اس لیے  وہی کام کریں جو سیاسی سوجھ بوجھ کے مطابق ہو اور عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کر سکے ۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے.

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں