واشنگٹن: امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے افغان طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمت عملی کو القاعدہ اور داعش کے مترادف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2021 کے بعد افغانستان میں مدارس اور تعلیمی نظام کو عالمی جہادی نظریے کی ترویج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ طالبان تعلیم کو سیکھنے کے بجائے نظریاتی اطاعت اور شدت پسندی کے فروغ کا ذریعہ بنا رہے ہیں، اور لڑکیوں کی تعلیم کو بھی نظریاتی مطابقت سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے خبردار کیا ہے کہ ہزاروں مدارس کے ذریعے نوجوان نسل کی منظم ذہن سازی خطے اور دنیا کے لیے مستقبل میں سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف افغانستان بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔