جنیوا مذاکرات: امریکہ اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے، مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے کی کوشش

06:28 PM, 17 Feb, 2026

جنیوا : عالمی سیاست کے مرکز، سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا دوسرا اہم ترین دور آج سے شروع ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں "انتہائی غیر معمولی" قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ حساس بات چیت جنیوا میں موجود عمانی سفارت خانے میں منعقد ہو رہی ہے۔ عمان روایتی طور پر دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی مشرقِ وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان براہِ راست گفتگو کے بجائے عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ (بالواسطہ مذاکرات) کیا جائے گا۔ اس وفد میں جیرڈ کشنر کی موجودگی بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔
مذاکرات کی میز پر دونوں ممالک کے موقف میں واضح خلیج موجود ہے۔  واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ ایران کے میزائل پروگرام اور دیگر علاقائی معاملات کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔تہران کا دو ٹوک موقف ہے کہ وہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام پر لگی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر بات کرے گا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ "صفر افزودگی"   کی کسی بھی شرط کو تسلیم نہیں کریں گے۔
مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی سے بھی اہم ملاقات کی ہے، جس میں جوہری ماہرین کے ہمراہ تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے نازک وقت پر ہو رہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں عسکری نقل و حرکت اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنیوا میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی کا نیا اور خطرناک رخ سامنے آ سکتا ہے۔

مزیدخبریں