اسلام آباد/کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جرنلسٹ پروٹیکشن بل سب سے پہلے سندھ حکومت نے منظور کیا اور پیپلز پارٹی صحافیوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے جو کچھ کر سکتی ہے، کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور تمام صحافتی تنظیموں کے ساتھ پیپلز پارٹی کے خوشگوار تعلقات ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ایوان میں دی گئی بریفنگ کو مثبت فیڈ بیک ملا، جس میں سندھ میں صحت کے نظام، سیلاب متاثرین اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاست کا معیار ایک دوسرے پر تنقید تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ دنیا کو سندھ میں ہونے والے اچھے کاموں کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں سندھ کا 70 فیصد علاقہ متاثر ہوا، تاہم بلاول بھٹو کی ہدایات پر سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں عوام کو بلا تفریق مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے، این آئی سی وی ڈی میں گزشتہ سال 29 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا، جن میں 54 فیصد مریض ملک کے دیگر حصوں سے آئے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں سائبر نائف ٹیکنالوجی کے ذریعے مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دنیا کے صرف 11 ممالک میں یہ جدید سہولت موجود ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خواتین کو مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تھر کول منصوبے پر سندھ حکومت ایک ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکی ہے اور تھر کے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرے تو 200 سال تک دنیا کو بجلی فروخت کی جا سکتی ہے۔
رانا ثناءاللہ کی ایوان صدر میں بریفنگ پر تنقید کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ ایوان صدر کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے، اور مثبت اقدامات پر تنقید مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی دوری نہیں اور الزام تراشی کی سیاست کو انتخابات تک محدود رکھنا چاہیے۔