کراچی: اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کے معاملے کی پولیس تفتیش تیزی سے جاری ہے۔ تحقیقات کے دوران چوکیدار، قریبی دوست اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے اداکارہ سے رابطے میں رہنے والے افراد کے سی ڈی آر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان افراد کی لوکیشن کے تعین کے لیے موبائل ٹاورز کی چیکنگ کا عمل جاری ہے۔ ان لوکیشنز کا میچنگ بھی کی جائے گی تاکہ موت کے وقت اداکارہ کے رابطوں کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
تحقیقات کے دوران تفتیشی افسران نے اداکارہ کے تین موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ سے حاصل شدہ معلومات کا بغور جائزہ لیا ہے۔ ان کے فلیٹ سے ڈائری، یوٹیلیٹی بلز اور گھر کے کرائے کی مئی 2024 تک کی رسیدیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ تفتیشی حکام کا خدشہ ہے کہ حمیرا اصغر کی موت 7 اکتوبر کو ہوئی، کیونکہ ان کا فون آخری بار اسی دن شام پانچ بجے تک استعمال ہوا جبکہ آخری میسج بھی 7 اکتوبر کو ساڑھے پانچ بجے کے قریب بھیجا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اداکارہ موت کے وقت مالی مشکلات کا شکار تھیں۔ ان کے الیکٹرانک گیجٹس کو سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اگر ان گیجٹس سے ڈیٹا حذف ہو چکا ہے تو اسے بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تفتیش کے دوران اداکارہ کے الیکٹرانک گیجٹس سے اب تک کوئی اہم معلومات نہیں مل سکیں۔ مزید برآں، اداکارہ کے دو بینک اکاؤنٹس بھی سامنے آئے ہیں، ایک لاہور اور دوسرا کراچی میں۔ پولیس مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہے تاکہ اس معاملے کی مکمل حقائق تک پہنچا جا سکے۔