برطانیہ میں 16 سال کی عمر میں ووٹنگ کی اجازت دینے کا فیصلہ، قانون سازی متوقع

08:44 PM, 17 Jul, 2025

لندن: برطانوی حکومت نے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سال سے گھٹا کر 16 سال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جسے ایک تاریخی جمہوری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، حکمران لیبر پارٹی نے حکومت میں آنے سے قبل اپنے منشور میں نوجوانوں کو ووٹنگ کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا، اور یہ فیصلہ اسی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ "جب نوجوان 16 سال کی عمر میں کام کر سکتے ہیں، ٹیکس ادا کر سکتے ہیں، تو انہیں سیاسی فیصلوں میں حصہ لینے کا حق بھی ملنا چاہیے۔"

یہ تجویز اب پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی، جہاں حکومت کو اکثریت حاصل ہے، اور ممکنہ طور پر یہ قانون جلد نافذ ہو سکتا ہے۔

دنیا کے چند ہی ممالک میں قومی سطح پر 16 سال کی عمر میں ووٹنگ کی اجازت دی گئی ہے، جن میں آسٹریا، ارجنٹائن، برازیل، ایکواڈور اور کیوبا شامل ہیں۔ آسٹریا نے 2007 میں یہ قدم اٹھا کر یورپی یونین میں سبقت حاصل کی تھی۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ووٹنگ کی عمر کو اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی مقامی اسمبلیوں کے انتخابات سے ہم آہنگ کرنا ہے، جہاں پہلے ہی 16 سال کے افراد کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے۔

البتہ اس فیصلے کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کا کہنا ہے کہ 16 سال کے نوجوان ابھی بالغ فیصلے کرنے کے قابل نہیں، کیونکہ وہ نہ الیکشن میں امیدوار بن سکتے ہیں، نہ شراب خرید سکتے ہیں اور نہ ہی شادی کر سکتے ہیں۔

تاہم پبلک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ تبدیلی 1969 کے بعد سب سے بڑی انتخابی اصلاحات ہوں گی، جب ووٹنگ کی عمر کو 21 سے کم کر کے 18 سال کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ووٹرز کی تعداد میں 95 لاکھ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ قدم نوجوانوں کو قومی معاملات میں شامل کرنے اور جمہوریت کو نئی توانائی دینے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔

مزیدخبریں