واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت عسکری پالیسی اور ممکنہ جنگ کے سائے گہرے ہوتے ہی ان کی انتظامیہ کے اندر شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اہم اتحادیوں کے بعد اب اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا ہے، جس میں پہلا بڑا دھماکہ ڈائریکٹر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم کے استعفے کی صورت میں ہوا ہے۔
مستعفی ہونے والے اہم عہدیدار اور سابق انٹیلیجنس افسر جو کینٹ نے اپنے عہدے سے الگ ہوتے ہی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ جو کینٹ کا کہنا ہے کہ ایران سے امریکہ کی سلامتی کو کوئی براہِ راست خطرہ لاحق نہیں تھا۔ یہ جنگ امریکی مفاد میں نہیں بلکہ محض مخصوص ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جو کینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ سیکیورٹی خطرات کے بجائے اسرائیل اور اس کی طاقتور لابی کے شدید دباؤ پر کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، امریکی فوج کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے جس کا مقصد صرف بیرونی قوتوں کو خوش کرنا ہے۔
نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم جیسے حساس ادارے کے سربراہ کا استعفیٰ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی اس جنگ کے حق میں نہیں ہے۔
ایران جنگ کے معاملے پر پہلا اہم استعفیٰ، واشنگٹن میں کھلبلی
07:18 PM, 17 Mar, 2026