خصوصی عدالت میں ججز کی عدم تعیناتی کیس: عدالت نے محکمہ قانون پنجاب کی کمیٹی کو ایک اور موقع دے دیا

11:25 AM, 17 May, 2024

نیوویب ڈیسک

لاہور :  لاہور ہائیکورٹ میں خصوصی عدالت میں ججز کی عدم تعیناتیوں کےکیس  میں عدالت نے محکمہ قانون پنجاب کی کمیٹی کی درخواست پر ججز تعیناتی کےلئے ایک موقع دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت اہم شخصیات کیخلاف 9 مئی کے مقدمات اور حکومت پنجاب کی کیسز ٹرانسفر کرنے کیلئے   درخواست پر سماعت  ہوئی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے محکمہ پراسیکیوشن کی درخواست پر سماعت کی،  ججز تعیناتی کمیٹی ممبران سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، مجتبیٰ شجاع الرحمن ودیگر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی عدالت مین پیش ہوئے اور  عدالت میں رپورٹ پیش کی  ۔  

ڈرخواست میں کہا گیا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی واقعات کے کیسز زیر التوا ہیں ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت دیگر رہنما کیسز میں نامزد ہیں ، عدالت نمبر ایک راولپنڈی کے جج سے انصاف کی توقع  ہے۔درخواست میں  استدعا  کی گئی ہے کہ جج کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے کیسز کسی دوسری عدالت میں ٹرانسفر کئے جائیں ۔

عدالت نے استفسارکیا کہ  یہ کیا ہے یہ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کا خط ہے ؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل  نے بتایا کہ یہ خطوط انسداد دہشت گردی عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کے ہیں ،  لیبر کورٹ کے ججز تعیناتی کے خطوط پر تین رکنی کمیٹی بنی، آپ نے جو ججز کے نام بھیجے ان کی ایمانداری دیانتداری پر کوئی شک نہیں ۔  

چیف جسٹس نے موجود کمیٹی ممبران کے بارے میں پوچھا  اور ریمارکس دئے کہ  میں تو انصاف کیلئے بیٹھا ہوں.

سینیٹر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب   نے عدالت مین کہا کہ ہم قانون کے مطابق شفاف طریقے سے ججز کی تعیناتی پر غور کررہے ہیں ، جو آپ نے نام بھیجے ہیں ان ہی پر غور کررہے ہیں ۔

چیف جسٹس  نے ریمارکس دیے کہ قانون میں لکھا ہے چیف جسٹس جو نام بھیجے گا ان کو تعینات کیا جائے گا ، آپ کو کتنی بار بلایا گیا ہے لوگ دھکے کھا رہے ہیں آپ صوبے کے بڑے لاء افسر ہیں آپ نے پہلے کیوں بات نہیں کی ۔

چیف جسٹس  نے کہا کہ ہماری ڈیوٹی ہے انصاف فراہم کرنا ، جتنے سیاستدان ہیں ہمارے لئے قابل احترام ہیں ،  آج یہ ادھر کھڑے ہیں کچھ سال بعد یہ دوسری طرف ہونگے۔

مریم اورنگزیب  نے کہا کہ ہم بھی آپ کا احترام کرتے ہیں ،آپ ہمیں چیمبر میں ملاقات کا وقت دیدیں مشاورت ہو جائے گی ۔ جس پر چیف جسٹس  نے کہا کہ یہ آپ کا مطالبہ ٹھیک نہیں ہے جو بات ہوگی اوپن کورٹ میں ہوگی، قانون میں سب کچھ وضاحت سے لکھا ہے ابہام ہے ہی نہیں، میں نے آپ کو نام دیئے ہیں ان کو تعینات کریں ۔چیف جسٹس  نے  وزیر قانون  سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر قانون صاحب آپ تو باہر سے پڑھ کر آئیں بتائیں ، جو بات قانون اور آئین میں لکھی ہے اس کے علاوہ کیا بات ہوگی ۔

مریم اورنگزیب  نے کہا کہ ہم  نےبامقصد بات چیت کیلئے وقت کی درخواست کی ہے، جس پر چیف جسٹس  نے کہا کہ یہ مشاورت ہی ہورہی ہے اور کیا ہے ، میں منتخب ممبران کی عزت کرتا ہوں چاہے جیسے بھی ہوں ۔

چیف جسٹس  لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس معاملے پر مشاورت کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ، وہ آجاتیں یا پھر مجھے پیغام بھیج دیتیں ۔ قانون میں دہشتگردی کیسز کا فیصلہ کتنے دن لکھا ہے اور عدالتیں کب سے خالی پڑی ۔

وزیر قانون   نے کہا کہ آپ ہمیں نام دیدیں اور مشاورت کیلئے وقت دیدیں  جس پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دس گیارہ بار کہہ چکے ہیں،  یہ مناسب نہیں بار بار بار دہرانا آپ میرے لئے قابل احترام ہیں لیکن یہ مناسب نہیں ۔

چیف جسٹس  نےمزید ریمارکس دیے کہ نئی حکومت ہے تو آنیوالوں کیلئے ایک مثال سیٹ کریں ، آئین قانون، اداروں کی عزت کرنے بارے آپ بیانات دیتے ہیں ۔آپ ہماری عزت بے شک نہ کریں اپنے آپ پر رحم کریں ، کل ان کو بھی میں کہتا تھا یہ نہ کریں آج آپ کو بھی کہہ رہا ہوں ۔

چیف جسٹس  نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالتیں کیسز کا سات دن میں فیصلہ کرنے کی پابند ہیں ۔ درخواست گزار حسیم عامر 2015 سے دہشتگردی کیس میں قید ہے ،انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک لاہور جج تعینات نہیں ہے ۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب  نے کہا کہ ہمیں نامزد کسی جوڈیشل آفیسر پر اعتراض نہیں ہے۔ جس پر چیف جسٹس  نے کہا کہ اگر اعتراض نہیں تو ججز تعینات کیوں نہیں کرتے ، میڈم ہم آپ کی عزت کرتے ہیں آپ لوگ چاہے ہماری عزت نہ کریں ۔ہم تمام اداروں کی عزت کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ، آپ سب قابل احترام ہیں مجھے اچھا نہیں لگا کہ پارلیمنٹرین کو بلانا۔

چیف جسٹس نے اہم ریمارکس دیے کہ انسداد دہشت گردی قانون کےتحت مقدمات کاسات یوم میں فیصلہ کرنا ہے۔عدالت کوبلاوجہ سختی پر مجبور کیاجارہاہے۔ یہ بھی فیصلے میں لکھوانا پڑے گا کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔درخواست گزار کی پٹیشن پرلاہور ہائیکورٹ نے دہشت گردی عدالت کو بیس یوم میں فیصلہ کرنے کاحکم دیا۔درخواست گزار کارشتہ دار کے خلاف 2015  سے دہشت گردی عدالت میں کیس چل رہاہے۔ججز عدم دستیابی سے فیصلے کیسے ہوں گے اور ملزمان جیلوں میں بند ہیں۔ہماری کسی ادارے سے لڑائی نہیں۔ پارلیمان میں دیکھنے والوں کو بھی دیکھنا اور سوچنا چاہئیے۔اب زبانی کلامی بات نہ کی جائے بلکہ عملی اقدام کیاجائے۔

چیف جسٹس نے 20کہا کہ   مئی تک آپ کو آخری موقع دیتے ہیں ، آپ دوبارہ بات نہ دہرائیں مجھے سخت آرڈر کرنا پڑ جائے، آپ کو اگر کسی جج پر اعتراض ہے تو بتا دیں ۔سوموار سے آگے تاریخ نہیں دی جائے گی ۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست پر سماعت 20 مئی تک ملتوی کردی۔

مزیدخبریں