نیویارک :اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شدید بھوک کا بحران ریکارڈ حد تک شدت اختیار کر چکا ہے، جسے انسانی تاریخ کے بدترین غذائی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں تقریباً 29 کروڑ 53 لاکھ افراد ایسے تھے جو شدید غذائی قلت کا شکار رہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 1 کروڑ 37 لاکھ زیادہ ہے، اور اس کے ساتھ یہ چھٹا مسلسل سال ہے جب غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
غزہ، یمن، سوڈان، مالی اور میانمار جیسے جنگ زدہ اور بحران سے دوچار ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورت حال کو "انسانیت کی ناکامی" قرار دیتے ہوئے فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امدادی فنڈز میں موجودہ کمی برقرار رہی، تو آئندہ سال کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، خصوصاً ایسے ممالک میں جہاں قحط پہلے ہی دہلیز پر کھڑا ہے۔