غزہ: حماس کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی میں مزید وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ بعض لاشیں غزہ کے تباہ شدہ سرنگوں میں دفن ہو چکی ہیں جبکہ کچھ لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ ان لاشوں کو نکالنے کے لیے خصوصی آلات کی ضرورت ہے، جو اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے دستیاب نہیں ہو پارہے۔
حماس نے گزشتہ روز غزہ امن معاہدے کے تحت مزید 2 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کی تھیں۔ ان لاشوں کو ریڈ کراس کے ذریعے غزہ میں موجود اسرائیلی فوج کے سپرد کیا گیا تھا۔ حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز نے ایک مختصر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور اس کے ساتھ وہ وہ لاشیں بھی واپس کر چکے ہیں جو تک رسائی ممکن تھی۔
حماس نے مزید کہا کہ وہ دیگر یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی کے لیے بڑی کوششیں کر رہا ہے اور اس میں خصوصی آلات اور وسائل کی ضرورت ہے تاکہ ملبے سے لاشوں کو نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ حماس اس سے قبل 8 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرچکا ہے، جبکہ اب مزید 2 لاشیں بھی فراہم کی گئی ہیں، جس کے بعد اسرائیل کو موصول ہونے والی ہلاک یرغمالیوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، حماس کی قید میں جو یرغمالی ہلاک ہوئے، وہ غالباً اسرائیلی فوج کے غزہ پر وحشیانہ حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔ اس وقت اس حساس معاملے کی تکمیل کے لیے دونوں فریقین کی جانب سے مزید کوششوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔