کیا بسنت نامی خونی کھیل دوبارہ پنجاب میں ڈیرے ڈالنے کو تیار ہے ؟ 

07:51 PM, 17 Oct, 2025

تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا 

لاہور میں محدود سطح پر بسنت منانے کی اجازت دینے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بسنت فیسٹیول صرف دو روز کے لیے ہفتہ اور اتوار کو منانے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق تیز دھاتی تار، نائیلون اور کیمیکل ڈور کے استعمال پر پابندی ہو گی۔

واضح  رہے کہ یہ صرف تجویز ہے ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت نے اس تجویز کو منظور کر لیا تو کیا معصوم انسانی جانیں اور چرند پرند اس قاتلانہ کھیل کے وار سے بچ سکیں گے ؟ رپورٹس کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے حکومت پاکستان کو بسنت منانے کی اجازت طلب کرنے کے لیے سفارشات کا سلسلہ جاری ہے۔ آصف اشفاق والا واقعہ جو مارچ 2024 میں پیش آیا تھا شاید سب بھول گۓ ہیں۔


" آصف پتنگ کے واقعہ" سے مراد پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ایک نوجوان آصف اشفاق کی المناک موت ہے، جو مارچ 2024 میں شیشے کی پتنگ کی ڈور سے جاں بحق ہو گیا تھا۔ ڈجکوٹ روڈ پر سفر کے دوران وہ تار سے ٹکرا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی تھی۔ یہ واقعہ ان تیز دھار ڈوروں کے استعمال کے جاری خطرات پر روشنی ڈالتا ہے۔

 پاکستان کے صوبہ پنجاب میں، پتنگ بازی پر مکمل پابندی پنجاب پروہیبیشن آف کائٹ فلائنگ (ترمیمی) ایکٹ، 2024 کے تحت نافذ ہے۔ یہ قانون پتنگ اڑانے کے ساتھ ساتھ پتنگوں کی تیاری، فروخت اور نقل و حمل کے لیے سخت سزائیں دیتا ہے۔ جس میں طویل قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں۔

 یہ پابندی پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی خطرناک ڈور کی وجہ سے ہونے والے جان لیوا حادثات کا ردعمل ہے۔ لیکن آج کی تاریخ میں یہ جو لاہور میں بسنت منانے کی سفارشات اور پروگرام بناۓ جا رہے ہیں یہ انسانی جانوں کو ایک بار پھر سولی پر لٹکانے کے برابر ہیں۔

نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس بارے میں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

وجیہہ تمثیل مرزا  پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
 
 

مزیدخبریں