"شکریہ مودی جی – 75ویں سالگرہ مبارک!"

11:45 AM, 17 Sep, 2025

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر انگریزی اخبار میں  ایک طنزیہ مگر بصیرت افروز آرٹیکل شائع ہوا جس میں مصنف مسعود احمد خان جو ریٹائرڈ برگیڈیئر  اور آرٹیکل لکھتے ہیں  نے انہیں پاکستان کی ترقی میں غیر ارادی کردار پر "شکریہ" کہا ہے۔مصنف نے دس نکات پر روشنی ڈالی جن میں مودی کے اقدامات کو پاکستان کے لیے تقویت بخش ثابت کیا گیا۔
انہوں نے اپنے   آرٹیکل میں  لکھا کہ اپریل 2007 میں، نئی دہلی SAARC سربراہی اجلاس کے دوران اعتماد سے بھرپور تھا۔ منموہن سنگھ کی قیادت میں بھارت کی معیشت ترقی کر رہی تھی، پالیسیاں موثر تھیں اور سفارتکاری نتیجہ خیزتھی۔ اس وقت پاکستان بھی اپنی جغرافیائی اہمیت کو سمجھ کر اسے ایک اثاثہ بنانے کی سعی میں تھا، معیشت  کووسعت دے رہا تھا دہشتگردی کا قلع قمع کر نے کے ساتھ ساتھ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر رہا تھا اور بھارت سمیت تمام کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کر رہا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ اب 2025 آ چکا ہے۔ دو دہائیوں بعد، پاکستان نے سیاستدانوں، عوام اور عالمی شراکت داروں کی مدد سے ایک منفرد راستہ اختیار کیا ہے۔ اس نئے سفر پر کئی لوگ شکریے کے مستحق ہیںلیکن جس شخصیت کا شکریہ کہنا میرے لیے سب سے حیران کن ہے، وہ ہیں جناب نریندر مودی۔
جی ہاں، آپ نے صحیح سنا۔ ان کی پالیسیاں، جن کا مقصد بھارت کی طاقت دکھانا اور پاکستان کو دبانا تھا، بالآخر الٹا اثر لے آئی ہیں یعنی  ان پالیسوں کا بیک فائر ایفیکٹ ہوا ہے اور ہر وار جو ہمیں کمزور کرنے کے لیے کیا گیا، نیوٹن کے قانون کی مانند، ہمیں اور مضبوط کر گیا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ  یہ مضمون اس دن شروع کیا جب پاکستان نے بھارت کو شکست دی، لیکن اسے مودی جی کی 75ویں سالگرہ کے لیے محفوظ رکھا۔
یہ صرف دس وجوہات کا شکریہ ہے۔ 

پہلا شکریہ: بھارت کے سیکولر ہونے کا جھوٹ بے نقاب کرنے پر

پاکستان دہائیوں سے دنیا کو خبردار کرتا رہا کہ بھارت کا "سیکولرزم" صرف ایک دکھاوا ہے۔ہمیں ہمیشہ نظرانداز کیا گیا، لیکن پھر آئے نریندر مودی۔انہوں نے نہ صرف بھارت کے سیکولرازم کو ٹھیس پہنچائی بلکہ اس کی بنیادیں ہلا دیں۔2002 کے گجرات فسادات سے لے کر 2025 کے بہار الیکشن تک، انہوں نے وہ سب کچھ کھلے عام کر دکھایا جو پاکستان کے میڈیا کے لیے ناقابل ثبوت تھا۔آج مغربی میڈیا خود بھارت میں سیکولرازم کے زوال پر خبریں نشر کر رہا ہے۔شاید اب مغرب کو پاکستان کا پرانا مؤقف یاد آ گیا ہو۔

دوسرا شکریہ: دو قومی نظریے کو درست ثابت کرنے پر
دوقومی نظریے کی وجہ سے  برصغیر تقسیم ہوا۔  تقسیم برصغیر ایک سانحہ تھا، لیکن اس کے پیچھے منطق اب پہلے سے زیادہ واضح ہو گئی ہے۔1947 میں، ایک اقلیت کو اس کے حقوق سے محروم کیا گیا، جس نے پاکستان کو منتخب کیا۔بھارت ت نے وعدہ کیا تھا کہ ہر مذہب و ذات کے لوگ مساوی ہوں گے، لیکن یہ صرف آئین میں لکھا ہے۔آج بھارت میں اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری بن چکی ہیں اور  وہ بر ی طرح پس رہی ہیں۔  دو قومی نظریہ اب صرف پاکستانی نصاب میں نہیں، بلکہ روزانہ بھارتی خبروں میں نظر آتا ہے۔

تیسرا شکریہ: کشمیریوں کو واضح پیغام دینے پر

کشمیر کا مسئلہ برسوں سے بھارت کی طاقت، میڈیا، اور چمک دمک میں دب چکا تھا۔جمہوریت کے دعوے کیے گئے، لیکن اقوام متحدہ کے وعدے کبھی پورے نہ ہوئے۔پاکستان نے  اس کے لیے آواز اٹھائی، لیکن ہماری طاقت محدود تھی۔پھر آیا مودی کا "ماسٹر سٹروک"  یعنی آرٹیکل 370 کا خاتمہ۔
اس اقدام نے بھارت کی حقیقت عیاں کر دی اور واضح کردیا کہ مودی کیا چاہتے ہیں۔  آج کشمیریوں کو علم ہے کہ بھارت کے ساتھ رہ کر وہ کبھی آزاد فیصلہ نہیں کر پائیں گے۔

چوتھا شکریہ: بھارتی فضائیہ کے ذریعے ہماری مہمان نوازی دنیا کو دکھانے پر

ہم نے کھیل کے میدان میں مقابلہ چاہا، لیکن 2019 میں آپ نے ایک پائلٹ بھیج دیا۔پاکستان نے دنیا کو حیران کر دیا، اس  کو چائے پلائی، عزت دی اور امن کے پیغام کے ساتھ واپس بھیجا۔جہاں بھارت نے جہاز بھیجے، ہم نے اخلاق  کے ساتھ   چائے پیش کی۔اس کے بدلے، آپ نے کہا: "رفال ہوتا تو یہ نہ ہوتا۔اپنے پائلٹ کو بھی ایک جنگی سودے کے لیے قربان کر دیا۔تاہم اب  دنیاحقیقت  جان چکی ہے۔

پانچواں شکریہ: ہماری فضائی برتری ثابت کرنے کا موقع دینے پر

2019 میں چائے تھی، 2025 میں ہمارے اپنے تیار کردہ لڑاکا طیارے تھے، جن پر چینی PL-15 میزائل لگے تھے۔نتیجہ: 6-0۔جو 2019 میں ایک ٹریلر تھا، وہ 2025 میں پوری فلم بن گیا۔تاریخ گواہ ہے کہ  ایک سات گنا چھوٹے ملک نے برتری ثابت کی۔ہماری افواج نے کارنامہ انجام دیا، لیکن آپ نے اس کے لیے اسٹیج اور تماشائی مہیا کیے۔

چھٹا شکریہ: ہمیں سکھانے پر کہ کہیں بھی کھڑے نہ ہونے کا مطلب کیا ہے

آپ کواڈ میں امریکی مفادات کی حمایت کرتے ہیں، پھر BRICS میں جا کر ڈالر کی مخالفت کرتے ہیں ،آپ یوکرین کی خودمختاری کی بات کرتے ہیں، پھر روس کو فنڈز دیتے ہیں۔یہ سب باتیں ایک  تضاد کو ظاہر کرتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ سبق تھا کہ کن اتحادوں میں نہ شامل ہوں، کس طرح واضح پالیسی اپنائی جائے۔آپ نے دکھا دیا کہ جو ہر جگہ ہو، وہ اصل میں کہیں نہیں ہوتا۔

ساتواں شکریہ

آپ نے سستا روسی تیل خریدا، واشنگٹن میں مقبولیت چاہی، یورپ کو ناراض کیا، اور عالمی منڈیوں کو چکر میں ڈال دیا۔امریکہ نے دیکھ لیا، یورپ نے نوٹ کر لیا، منڈیوں نے ردعمل دے دیا۔جو چالاکی تھی، وہ سکینڈل  کی صورت  میں ظاہر ہوگئی ۔ "میک ان انڈیا" سے شروع ہو کر 50 فیصد ٹیرف تک، آپ کی حفاظتی پالیسیاں بھارت کے برآمد کنندگان کے لیے سزا بن گئیں۔

آٹھواں شکریہ: جنوبی ایشیا کی قیادت چھوڑ دینے پر

کبھی بھارت اس  خطے کی قیادت کا دعویدار تھالیکن آپ نے اجلاسوں سے بائیکاٹ کر کے، ہر مسئلے کا الزام پاکستان پر ڈال کر، وہ مقام کھو دیا۔
ہر خالی کرسی نے یہ دکھایا کہ خطے کو بہتر قیادت کی ضرورت ہے۔آخر کار، آپ نے وہ کرسی ہمارے لیے چھوڑ دی ۔

نواں شکریہ: آپ کے میڈیا کو گھریلو استعمال تک محدود کرنے پر

آزاد صحافت اقتدار سے سوال کرتی ہے آپ کی میڈیا اقتدار کو خوش کرتی ہے۔“گودی میڈیا” نے بھارت کی ساکھ کھو دی، اور پاکستان کا بیانیہ مضبوط کیا۔جب آپ کے اینکرز چیخ رہے تھے، دنیا ہماری ہی بات  سن رہی تھی۔آپ کے "سٹار جرنلسٹ" اگر پاکستان میں ہوتے، تو پرائم ٹائم پر نہیں، کسی تھراپی سیشن میں ہوتے۔

دسواں شکریہ: مسلم دنیا کی آنکھیں کھول دینے پر

تصویریں کیمرہ دھوکہ دے سکتی ہیں، لیکن دنیا کو نہیں۔ نیتن یاہو کے ساتھ تصاویر، اسرائیلی ڈرونز کی خریداری   سب دیکھ لیا گیا۔مسلم دنیا دیکھ رہی تھی۔کئی سالوں سے کچھ ممالک بھارت کی مارکیٹ کو پاکستان سے بہتر سمجھ رہے تھے،لیکن آپ نے صرف ایک قدم سے فلسطین کے معاملے کو پھر زندہ کر دیا۔ترکی یا آذربائیجان کا بائیکاٹ اب کام نہیں آئے گا۔


مودی جی، میں پاکستان پر آپ کی مہربانیوں پر پوری کتاب لکھ سکتا ہوں۔آپ کی 75ویں سالگرہ پر، میں پاکستانیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ مزید وجوہات کے ساتھ آپ کا شکریہ ادا کریں۔جو براہِ راست شکریہ کہنا چاہیں، تو مودی جی کا X ہینڈل ہے: @narendramodi۔

مزیدخبریں