ایریزونا/واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم ترین انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ ایرانی 'نیوکلیئر ڈسٹ' (ایٹمی مواد) حاصل کر لے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا عمل انتہائی مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور سفارتی کوششیں ویک اینڈ کے دوران بھی بلا تعطل جاری رہیں گی۔
ایریزونا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے عزائم ظاہر کیے۔ایٹمی مواد کی واپسی: صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران سے ایٹمی مواد واپس لایا جائے گا تاکہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے مکمل طور پر روکا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس نئے معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کا مالی فائدہ یا نقد رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی قوت بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہا۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو "زبردست شخصیات" قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے اس عالمی امن مشن میں جو کلیدی کردار ادا کیا ہے، وہ اس پر ان کے بے حد مشکور ہیں۔
عرب ممالک کی ستائش: صدر ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے غیر معمولی حوصلے اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔نیٹو کی جانب سے مدد کی اپیل پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ کو نیٹو کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ نیٹو کو امریکہ کی ضرورت ہے۔
"ایران سے ایٹمی مواد امریکہ منتقل کیا جائے گا"؛ صدر ٹرمپ کا جوہری ڈیل میں بڑی پیش رفت کا اعلان، پاکستانی قیادت کا ایک بار پھر شکریہ
09:16 AM, 18 Apr, 2026