برآمدات میں 7 ارب ڈالر کمی کا خدشہ، 4 گھنٹے لوڈشیڈنگ ناقابل قبول ہے، ایس ایم تنویر

12:45 PM, 18 Apr, 2026

کراچی:یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن انچیف اور معروف صنعتکار ایس ایم تنویر نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر انڈسٹری 24 گھنٹے نہ چلی تو ملکی نظام مفلوج ہو جائے گا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدانتظامی کے باعث متعدد صنعتیں بند ہو چکی ہیں جبکہ کئی اپنی آدھی صلاحیت پر چل رہی ہیں۔
ایس ایم تنویر نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی برآمدات 33.3 ارب ڈالر تھیں، لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر اس سال برآمدات کی مد میں 7 ارب ڈالر کے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر سال برآمدات میں 10 فیصد اضافے کا ہدف رکھا تھا، جو موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے پورا ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔
بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے پیٹرن انچیف کا کہنا تھا   انڈسٹری پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، اب مزید 4 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں، جو صنعتوں کی مکمل بندش کے مترادف ہے۔    انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 5 سالوں سے بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز پر کوئی کام نہیں ہوا، یہاں تک کہ مٹیاری سے لاہور تک کی اہم لائن پر بھی کام رکا ہوا ہے۔
سرمایہ کاری کے باہر جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا کہ پیسہ ہمیشہ وہیں جاتا ہے جہاں منافع حاصل ہو۔ اگر پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہوگا تو سرمایہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ریسٹورنٹ سیکٹر تو روزگار بڑھا رہا ہے، لیکن اصل معاشی استحکام اداروں کو مضبوط کرنے اور صنعتی پہیہ چلانے سے ہی ممکن ہے۔
ایس ایم تنویر نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنائے اور صنعتوں کے لیے پالیسیوں کو سہل بنائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر طرف پھیلی بدانتظامی (Mismanagement) کو ختم کیے بغیر معیشت کی بحالی ممکن نہیں۔

مزیدخبریں