تہران / واشنگٹن : امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے نتیجے میں ایران نے دنیا کی اہم ترین بحری تجارتی گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد سمندری گزرگاہ کا تمام تر انتظام پاسدارانِ انقلاب کے سخت فوجی کنٹرول میں آ گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی اور کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے "سمندری ڈاکہ زنی" سے تعبیر کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جب تک بحری نظام مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، ایرانی افواج کی کڑی نگرانی جاری رہے گی۔ ایران اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی اقدام پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "ایران کے ساتھ نیا اور جامع معاہدہ ہونے تک بحری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ رہے گی۔ ہم ایرانی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایران نے 'آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی، عالمی بحری گزرگاہ پر پاسدارانِ انقلاب کا سخت فوجی کنٹرول
02:53 PM, 18 Apr, 2026