واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری جنگ بندی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق ایسی جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، کیونکہ یہ ایک پیچیدہ اور نازک عمل ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف خطوں کے حالات کا جائزہ لیتا ہے، جن میں پاکستان-بھارت، کمبوڈیا-تھائی لینڈ سمیت دیگر حساس علاقے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اسی وقت ممکن ہے جب دونوں فریق لڑائی روکنے پر آمادہ ہوں، اور یہ عزم اگر کمزور پڑے تو معاہدے ختم بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت صرف وقتی جنگ بندی پر قناعت نہیں کرتی بلکہ پائیدار امن معاہدے کی خواہاں ہے تاکہ نہ صرف موجودہ کشیدگی ختم ہو، بلکہ مستقبل میں دوبارہ جنگ کے امکانات بھی ختم کیے جا سکیں۔
مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ "ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایک ایسا صدر ہے جس نے عالمی امن کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح بنایا ہے۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 10 مئی کو رات گئے بات چیت کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔
صدر ٹرمپ نے بعد ازاں کئی مرتبہ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور اگر دونوں ممالک جنگ سے باز رہیں تو امریکہ ان کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب بھارت نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر ہوئی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنگ بندی کا کوئی تعلق امریکہ یا کسی تجارتی پیشکش سے نہیں ہے۔