افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلق، پاکستان کے لیے سنگین چیلنج ، اقوام متحدہ کی رپورٹ

11:43 AM, 18 Dec, 2025

نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان طالبان کی جانب سے لاجسٹک اور آپریشنل مدد ملتی رہی ہے، جو کہ پاکستان کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان طالبان نے دہشت گرد گروپوں کے لیے ایک ایسا ماحول قائم کر رکھا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کے دعوے کہ وہ اپنے علاقے کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، قابل اعتبار نہیں ہیں۔ سلامتی کونسل نے افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی سرکوبی میں ناکامی کی مذمت کی اور کہا کہ افغانستان میں موجود متعدد عسکریت پسند گروہ، بشمول ٹی ٹی پی اور داعش خراسان، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد ہائی پروفائل حملے کیے ہیں، جنہوں نے کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان میں 2025 میں ٹی ٹی پی کے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے مطابق 600 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔ جنوری 2025 میں، ٹی ٹی پی نے اپنے حملوں کے اہداف کو وسیع کرتے ہوئے پاکستان کی فوجی ملکیت والے کاروبار اور چینی کاروباری اداروں کو بھی نشانہ بنانے کی ہدایت جاری کی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں طالبان حکام ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہیں اور اس کے بجائے ان کے بعض اراکین اس گروہ کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ کچھ طالبان رہنماؤں کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں خلل ڈال رہا ہے، جبکہ دیگر اس کے حمایتی ہیں، جو کہ تاریخی تعلقات کی بنا پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے اس کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں داعش خراسان کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، رپورٹ میں پاکستان میں کچھ اہم گرفتاریاں بھی کی گئیں، جن میں 16 مئی 2025 کو داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظم کی گرفتاری شامل ہے۔

رپورٹ نے واضح طور پر کہا کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

مزیدخبریں