اسلام آباد : وفاقی وزیر امورِ کشمیر و شمالی علاقہ جات انجینئر امیر مقام کاکہنا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے 'عوامی معاہدے' کے 37 مطالبات میں سے 17 پر مکمل عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے معاہدے پر پیش رفت کی تفصیلات بتائیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ عوامی مطالبے کے پیشِ نظر آزاد کشمیر کی کابینہ کا حجم 20 وزراء تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، احتجاجی تحریک کے دوران معطل کیے گئے تمام سرکاری ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے اور مظاہرین کے خلاف درج 177 ایف آئی آرز (FIRs) بھی واپس لے لی گئی ہیں۔امیر مقام کے مطابق، ستمبر 2025 کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے 8 افراد کے لواحقین کو 120 ملین روپے سے زائد کے معاوضے اور سرکاری نوکریاں فراہم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیب قوانین کی روشنی میں آزاد کشمیر میں شفاف احتسابی نظام رائج کر دیا گیا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرز پر پراپرٹی ٹیکس میں اصلاحات نافذ کر دی گئی ہیں۔ منگلا ڈیم متاثرین کے مسائل کے حل پر تیزی سے کام جاری ہے۔تعلیمی شعبے میں بڑی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مظفرآباد اور کوٹلی میں دو نئے تعلیمی بورڈز کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ دانش اسکولوں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی ہے اور ایک 'دانش یونیورسٹی' کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
صحت کے شعبے میں 9.9 ارب روپے کی لاگت سے 3 بڑے منصوبے منظور کیے گئے ہیں اور تمام اضلاع میں MRI اور CT Scan مشینوں کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیر نے بنیادی ڈھانچے سے متعلق درج ذیل اپ ڈیٹس دیں۔ بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے کی اسکیم آخری مراحل میں ہے۔ 10 اضلاع میں سے 5 میں پانی کی فراہمی کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ میرپور ایئرپور ٹ کی فزیبلٹی رپورٹ آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
بلدیاتی ایکٹ میں اصلاحات اور جائیداد کے حقوق کی پالیسی آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بقیہ مطالبات پر بھی سنجیدگی سے کام کر رہی ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔