شمالی علاقوں میں جھیلوں کے اطراف ہوٹل تعمیرات پر پانچ سالہ پابندی کا فیصلہ

06:31 PM, 18 Jul, 2025

گلگت بلتستان: حکومت پاکستان نے شمالی علاقوں میں موجود جھیلوں کے قرب و جوار میں ماحولیات کے تحفظ کے پیش نظر اگلے پانچ سالوں تک نئے ہوٹلوں کی تعمیرات پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، یہ قدم غیر منظم تعمیرات سے قدرتی ماحول کو ہونے والے سنگین نقصانات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ اتھارٹی کے اعلیٰ افسر خادم حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہوٹلوں کی تعمیرات کو بغیر کسی ضابطے کے جاری رکھا گیا تو علاقے کی فطری خوبصورتی کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاح یہاں قدرتی مناظر دیکھنے آتے ہیں، نہ کہ سیمنٹ اور عمارتیں۔

رپورٹ کے مطابق، گلگت بلتستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جبکہ چیری کے باغات اور نیلگوں جھیلیں بھی اس خطے کو ملک اور بیرونِ ملک کے سیاحوں کے لیے پرکشش بناتی ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعمیرات نے مقامی وسائل، جیسے پانی، بجلی اور فضلہ نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔

گزشتہ ماہ، ایک غیر ملکی سیاح کی سوشل میڈیا ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک ہوٹل پر ہنزہ کی عطا آباد جھیل میں آلودہ پانی چھوڑنے کا الزام عائد کیا گیا۔ ویڈیو کے بعد حکام نے اس ہوٹل پر 5 ہزار ڈالر (تقریباً 15 لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس پابندی کے اعلان پر مقامی ہوٹل مالکان نے بھی مثبت ردعمل دیا اور کہا کہ قدرتی حسن اور ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزیدخبریں