آیت اللہ خامنہ ای نے جنگی اختیارات پاسداران انقلاب کو منتقل کر دیے

09:42 AM, 18 Jun, 2025

نیوویب ڈیسک

تہران : ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنگ سے متعلق مکمل اختیارات پاسداران انقلاب گارڈز کی شوریٰ کے سپرد کر دیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسداران انقلاب اب جنگی حکمتِ عملی، حملوں اور جوابی کارروائیوں کے مکمل فیصلے خود کرے گی۔

اس پیشرفت کے بعد پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر مزید طاقتور اور تباہ کن میزائل حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے حالیہ کارروائی میں تل ابیب، ہرزلیہ اور یروشلم کو نشانہ بنایا، جہاں بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز سے حملے کیے گئے۔ ہرزلیہ میں میزائل گرنے سے متعدد بسوں میں آگ لگ گئی، جبکہ تل ابیب میں سائرن کی گونج سنائی دیتی رہی۔

ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے اہم انٹیلیجنس اور سٹریٹجک مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔ موساد ہیڈ کوارٹرز اور ملٹری انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ پر حملے کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ حیفہ کی آئل ریفائنری مکمل طور پر بند ہو گئی، تین ملازمین ہلاک جبکہ اسرائیل میں دیگر تمام ریفائنریاں اور توانائی کے ذیلی ادارے بھی معطل ہو گئے۔

ایرانی حملوں میں اب تک 27 اسرائیلی ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے موبائل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل نظام پر بھی سائبر حملے کیے، جس کے باعث ہزاروں فونز اور ڈیوائسز ہیک کر لی گئیں۔ اسرائیل نے ملک بھر کے ہوائی اڈے بند کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود بھی سیل کر دی ہے۔

ایرانی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ اب تک ایران نے اپنے جدید ترین میزائل استعمال ہی نہیں کیے اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو ایران ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہے۔

مزیدخبریں