عدلیہ کا بنیادی مقصد عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے ، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

02:32 PM, 18 Jun, 2025

پشاور: چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ کا بنیادی مقصد عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے اور یہی ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔ وہ پشاور ہائی کورٹ بار سے خطاب کر رہے تھے۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے نومنتخب بار کابینہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ بار اور بنچ ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے، دونوں کو مل کر قانون کی حکمرانی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلا کو سینئرز کی رہنمائی میں آگے آنا چاہیے اور ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ عدالتی نظام مزید مضبوط ہو۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر پشاور میں نئے کچہری کمپلیکس کی تعمیر کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وکلا اور ججز کو سہولیات دینے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مرحوم سینئر وکلا، عبداللطیف آفریدی، بیرسٹر ظہور الحق اور دیگر قانونی ماہرین کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ہمیشہ اچھے وکلا رہے ہیں جنہوں نے ہمیں راہ دکھائی۔ ماتحت عدلیہ کو درپیش مسائل کا بھی ہمیں احساس ہے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔

اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس کی تقریب میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں عدالتی نظام میں جدید سہولیات کا بھرپور استعمال کرنا ہوگا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت 2 لاکھ 36 ہزار سے زائد کیسز ماتحت عدلیہ میں زیر التوا ہیں، جن میں بڑی تعداد فیملی کیسز کی ہے۔ انہوں نے بار ایسوسی ایشنز پر زور دیا کہ وہ ان مقدمات کے جلد حل میں عدلیہ کا ساتھ دیں۔

جسٹس عتیق شاہ نے کہا کہ جوڈیشنل اکیڈمی میں جونیئر وکلا کی تربیت کی جا رہی ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کر سکیں۔

مزیدخبریں