اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزیراعظم کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس

11:44 AM, 18 Mar, 2022

نیوویب ڈیسک

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے نوٹس کیخلاف وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران بیرسٹر علی ظفر نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق بھی قانون سے بالا نہیں ہو سکتا اور اس کی بنیاد پر کسی قانون کو ہی رد نہیں کیا جاسکتا ۔ 
انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی یا امیدوار کی جانب سے قانون اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہو تو 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، 19 فروری 2022 کو ایکٹ میں ترمیم کی گئی جس کے تحت ارکان پارلیمینٹ کو انتخابی مہم میں شرکت کی اجازت ملی، لیکن الیکشن کمیشن نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ رکن پارلیمینٹ کو الیکشن مہم میں شرکت کی اجازت تو ہو گی مگر پبلک آفس ہولڈرز (عوامی عہدے دار) شریک نہیں ہو سکے گا۔ 
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے یہ نوٹس چیلنج کر دیا ہے، آپ الیکشن کمیشن سے کیوں رجوع نہیں کرتے؟ معذرت کے ساتھ، آپ لوگوں نے بھی آرڈینینس کی فیکٹری لگائی ہوئی ہے، جو سارے کام پارلیمینٹ کے کرنے والے ہیں وہ کام آرڈینینس سے ہو رہے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ عمران خان اور اسد عمر نے الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوکر غلط کیا، آپ کو 14 مارچ کو پیش تو ہونا چاہئے تھا، آپ نے اپنے طور پر تو اس بات کا تعین نہیں کرنا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، ہم حکم امتناع جاری نہیں کریں گے، پہلے الیکشن کمیشن کو نوٹس کر کے سنیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم اور اسد عمر کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 مارچ تک سماعت ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم کے لوئر دیر جلسہ میں شرکت پر الیکشن کمیشن نے انہیں اور اسد عمر کو نوٹس جاری کیا ہے جس کے خلاف انہوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کرکے نوٹس فوری معطلی کی درخواست کی ہے۔
یاد رہے کہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی چھٹی کی وجہ سے ان کی کورٹ کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے جس کے باعث وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر کا کیس بنچ نمبر 2 کو بھجوا دیا گیا ہے جس کی سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔ 

مزیدخبریں