کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے مبینہ ظلم و ستم اور انتہا پسندی سے تنگ آ کر ملک کے نوجوانوں نے مسلح مزاحمت کا بگل بجا دیا ہے۔ افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے 'نیشنل موبلائزیشن فرنٹ' کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے طالبان رجیم کی جارحیت کے خلاف منظم محاذ آرائی کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں طالبان کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کی گئی ہے۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق افغان طالبان عوام کے حقیقی نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں، جنہوں نے ملک کے اقتدار پر جبراً قبضہ کر رکھا ہے۔ اعلامیے میں طالبان کو 'تاریکی اور جہالت کا گروہ' قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ رجیم کسی قسم کے سیاسی مکالمے یا سمجھ بوجھ کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے بینر تلے جمع ہونے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بیٹے اور بیٹیاں اب خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کو 'دہشت گرد گروہ' کے چنگل سے چھڑانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق، اس نئی مزاحمتی لہر کا مرکز افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقے ہیں، جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد اس فرنٹ کا حصہ بن رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ مزاحمت منظم ہوگئی تو طالبان کے لیے داخلی سطح پر بڑے سیکیورٹی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے خلاف بغاوت: 'نیشنل موبلائزیشن فرنٹ' کا قیام، افغان نوجوان مزاحمت کے لیے میدان میں نکل آئے
12:55 PM, 18 Mar, 2026