معصوم لڑکیوں کو 'ٹریپ' کرنے کا منظم دھندہ: ڈاکٹر صبیحہ اور ٹی ٹی پی کمانڈرز کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا

06:45 PM, 18 Mar, 2026

اسلام آباد / خضدار: سکیورٹی اداروں نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران خودکش حملے کی منصوبہ بندی کرنے والی خاتون دہشت گرد کو گرفتار کر کے ملک کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ اس گرفتاری کے بعد ہونے والی تحقیقات اور خاتون کے اعترافی بیان نے دہشت گرد نیٹ ورکس میں لڑکیوں کے جنسی اور نفسیاتی استحصال کے گھناؤنے کاروبار کو بے نقاب کر دیا ہے۔
دورانِ تفتیش یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں کمسن اور مجبور لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے جنسی استحصال اور ذہنی دباؤ کا سہارا لیتی ہیں۔ اس نیٹ ورک میں مبینہ طور پر ڈاکٹر صبیحہ نامی خاتون کا نام بھی سامنے آیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ نوجوان لڑکیوں کو ورغلا کر دہشت گردوں کے لیے سہولت کاری اور 'مینی پولیشن' (Manipulation) کا کام کرتی تھی۔
گرفتار ہونے والی لڑکی، جس کی شناخت لائبہ  کے نام سے ہوئی ہے، نے اپنے بیان میں دہشت گردوں کے طریقہ کار کی قلعی کھول دی۔  لائبہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جولائی میں میرا رابطہ ٹی ٹی پی کے کمانڈر ابراہیم عرف قاضی سے ہوا، جس نے مجھے خودکش حملے کے لیے تیار کیا۔ لائبہ کے مطابق اسے بہکا کر اور ذاتی استحصال (Exploitation) کا نشانہ بنا کر اس راستے پر دھکیلا گیا تاکہ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ جائے اور ان کے اشاروں پر چلے۔
کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا، جس نے مجھے ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا۔ مجھے ہدف دیا گیا تھا کہ میں مزید لڑکیوں کو بھی اس کام کے لیے ٹریپ کروں۔ لائبہ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ حملے یا کیمپ منتقلی کے لیے خضدار پہنچی تھی۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورک لڑکیوں کے کمزور حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں جذباتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں۔ پہلے ان کا ذاتی استحصال کیا جاتا ہے اور پھر اسی صدمے (Trauma) کو شدت پسندی کی طرف موڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وہ واپسی کا راستہ نہ پا سکیں۔
    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی اخلاقی معیار نہیں ہے۔ خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور ان کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھانا ان گروہوں کی اصل حقیقت ہے۔سکیورٹی اداروں نے اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش شروع کر دی ہے اور ڈاکٹر صبیحہ کے کردار کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں