خیبر : پاک افغان سرحد پر واقع طورخم بارڈر ساتویں دن بھی بند ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمد و رفت مکمل طور پر رکی ہوئی ہے۔ سرحدی کشیدگی کے سبب صورتحال میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
بارڈر بندش کی وجہ سے طورخم شاہراہ پر سینکڑوں مال بردار گاڑیاں کھڑی ہیں۔ تاجروں کے مطابق گاڑیوں میں لدا ہوا سامان خاص طور پر اشیائے خور و نوش خراب ہونا شروع ہو گیا ہے، جس سے انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بارڈر کی بندش کے باعث دونوں جانب روزمرہ اشیاء کی قلت پیدا ہو چکی ہے، جس سے قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عام شہری بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔
تاجر اور ٹرانسپورٹرز نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان کشیدگی کا فوری طور پر سفارتی حل نکالا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارڈر بندش کسی کے مفاد میں نہیں، اور اس کا براہ راست نقصان عام عوام اور کاروباری طبقے کو ہو رہا ہے۔