غزہ پر اسرائیلی فوج کی جارحیت، 98 فلسطینی شہید، سیکڑوں زخمی، ہسپتال اور رہائشی علاقے بمباری کی زد میں

03:08 PM, 18 Sep, 2025

غزہ :  اسرائیلی فوج کی جارحیت اور سفاکیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جس کے تازہ حملوں میں 98 فلسطینی شہید اور 385 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے الشفا اور ال اہلی ہسپتالوں کے قریب شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں نہ صرف کئی شہری ہلاک ہوئے بلکہ مسجد اور متعدد رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔

الشفاع ہسپتال کے قریب بمباری میں 19 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ ال اہلی ہسپتال کے قریب حملے میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ غزہ شہر میں جاری بمباری نے معمولی عمارتوں اور مقدس مقامات کو بھی نیست و نابود کر دیا ہے۔ مقامی عینی شاہدین کے مطابق درجنوں اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ کے ایک بڑے رہائشی علاقے میں داخل ہو چکی ہیں، جو زمینی آپریشن کے دوسرے دن کی پیش رفت ہے اور اس کا مقصد علاقے پر مکمل قبضہ جمانا ہے۔

7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 65 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو انسانی تاریخ کی ایک بڑی المیہ ہے۔ اس کے علاوہ، غذائی قلت اور قحط کی وجہ سے بھی 154 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، جس میں تازہ اضافہ چار مزید افراد کی موت سے ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی امدادی تنظیموں نے غزہ میں غیر انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

غزہ شہر سے موصولہ ویڈیو میں ٹینک، بلڈوزر اور بکتر بند گاڑیاں شمالی غزہ کے شیخ رضوان علاقے کے کنارے حرکت کرتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں اسرائیلی توپ خانے اور فضائی حملوں کی وجہ سے دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ زمینی حملے سے پہلے فضائی بمباری میں علاقے کی عمارتیں اور مرکزی سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

سعد حمادہ نامی ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں نہ صرف گھر، بلکہ سولر پینلز، بجلی کے جنریٹر، پانی کے ذخائر اور انٹرنیٹ نیٹ ورک تک کو تباہ کیا گیا، جس سے شہریوں کی زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔

دوسری جانب، چین اور سعودی عرب نے اسرائیلی فوجی آپریشن کی توسیع کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ، کینیڈا، فرانس اور آئرلینڈ نے بھی اسرائیلی حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ یورپی کمیشن نے اسرائیل پر پابندیوں کی تجاویز پیش کی ہیں تاہم چند یورپی ممالک کی مخالفت کی وجہ سے ان کے منظور ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

مزیدخبریں