سال 1971ء میں پاکستان ٹوٹنے کی بڑی وجہ غلط عدالتی فیصلہ تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سال 1971ء میں پاکستان ٹوٹنے کی بڑی وجہ غلط عدالتی فیصلہ تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ 1971ء میں ملک اچانک نہیں ٹوٹا بلکہ اس کیلئے بیج بوئے گئے تھے۔

 آئین کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 1971ء میں پاکستان ٹوٹنے کی بڑی وجہ غلط عدالتی فیصلہ تھا، میری رائے میں فیڈرل کورٹ کے جسٹس منیر نے پاکستان توڑنے کا بیج بویا، جو زہریلا بیج بویا گیا وہ پروان چڑھا اور 1971ء میں ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔

  

انہوں نے کہا کہ ہم جو کام آج کرتے ہیں اس کے اثرات صدیوں بعد تک ہوتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ووٹ سے سزائے موت دی گئی، اگر آپ کو تاریخ نہیں دہرانی تو تاریخ سے سیکھیں 1958ء سے 1999ء تک تاریخ پکارتی رہی کہ سیکھو، تاریخ ہمیں سات سبق دے چکی ہے اور کتنی بار سکھائے گی، 

 جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان جیسا تحفہ پھر نہیں ملے گا، آئین پاکستان ہر شہری کیلئے ہے جسے 10 اپریل 1973ء کو مشترکہ طور پر اپنایا گیا، یہ کتاب صرف پارلیمان نہیں لوگوں کیلئے بھی اہم ہے، اس کتاب میں لوگوں کے حقوق ہیں۔

  

ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین کی تشریح کر سکتے ہیں، جب ناانصافی ہوتی ہے تو زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتی، آئین کو اس طرح پیش نہیں کیا جاتا جس کا وہ مستحق ہے، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جھوٹ اور بداخلاقی کے نتائج کیا نکلتے ہیں، ہر شہری آئین پاکستان کی کتاب کا پابند ہے، اس آئین کا بڑا حوصلہ ہے، ہمیں بھی چاہیے ہم اپنا حوصلہ دکھائیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 184 تین کو کسی فرد کو فائدہ پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، اگر  اس شق کا استعمال مفاد عامہ میں نہ ہو تو اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا، میری رائے کے مطابق  184 تین کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

 
ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے دوستوں کی رائے ہے کہ سوموٹو کا اختیار چیف جسٹس کا ہے، ایک رائے یہ بھی ہے کہ 184 تین کا استعمال ہو تو سپریم کورٹ کے تمام ججز اسے سنیں، شق بتا دیں، میری اصلاح ہو جائے گی میں آپ کے نظریہ پر چل سکوں گا، اگر فیصلہ غلط ہے تو غلط رہے گا، چاہے اکثریت کا فیصلہ ہو، نمبر گیم سے جھوٹ سچ میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔

مصنف کے بارے میں