واشنگٹن / اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اب تک کا سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے کل پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں اسلام آباد میں اہم مذاکرات ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک "انتہائی منصفانہ اور معقول" ڈیل کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے یہ معاہدہ قبول نہ کیا تو وہ ایسے اقدامات کریں گے جو پچھلے 47 سالوں میں کوئی امریکی صدر نہیں کر سکا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ڈیل نہ ہونے کی صورت میں ایران کا ہر پاور پلانٹ اور پل تباہ کر دیا جائے گا۔ ایران کی عسکری صلاحیت اور "کلنگ مشین" کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ ایران کو ہر صورت ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں ہونے والی فائرنگ کو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی فورسز نے ایک فرانسیسی بحری جہاز اور برطانوی مال بردار جہاز کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ ایران کی جانب سے اس گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکی پر طنز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ایران کا اعلان عجیب ہے، کیونکہ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے یہ گزرگاہ پہلے ہی عملاً بند ہو چکی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق موجودہ صورتحال نے ایران کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے ۔ ایران کو روزانہ 50 کروڑ (500 ملین) ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ عالمی بحری جہازوں نے اب ایران کا انتظار کرنے کے بجائے امریکہ کی ریاستوں ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کا رخ کر لیا ہے تاکہ وہاں سے تیل اور دیگر سامان لوڈ کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران ان کی تجاویز قبول کر لے گا اور ایک معاہدہ طے پا جائے گا، چاہے وہ دوستانہ طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے۔ انہوں نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کے قریب ہیں اور ایران جلد اور آسانی سے گھٹنے ٹیک دے گا۔
ٹرمپ کی 'بڑی ڈیل'، ایران کو منصفانہ معاہدے کی پیشکش، دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جم گئیں
05:38 PM, 19 Apr, 2026