صدر مملکت کا بھارتی اقدامات پر اقوام متحدہ کے ماہرین کی تحقیقاتی رپورٹ کا خیر مقدم

01:09 PM, 19 Dec, 2025

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ تسلیم نہ کرنا اور پانی روکنا سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ رپورٹ میں مئی میں پاکستان پر بھارتی حملے کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو عالمی امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ پاکستان کے موقف کی تائید کرتی ہے، جس میں بھارتی حملے کو یو این منشور کی خلاف ورزی اور پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بھارتی حملے کے دوران شہریوں کی ہلاکت اور رہائشی و مذہبی مقامات پر ہونے والے نقصانات کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جس سے بھارتی جارحیت کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے رپورٹ میں بھارتی جارحیت کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری اور علاقائی استحکام کا اہم ستون ہے، اور بھارت کی طرف سے معاہدہ نہ ماننا اور پانی روکنا خطے میں سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی بے نقاب کرنے کو سراہا اور بھارتی جارحانہ سوچ، بیانات اور جانی نقصانات کو منظر عام پر لانے پر اقوام متحدہ کے ماہرین کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی عالمی سطح پر تنازعات کو بڑھا سکتی ہے اور خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے معاملے پر فوری طور پر ردعمل دے اور اس مسئلے کا حل عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔

مزیدخبریں