بنگلہ دیش میں نوجوان سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد احتجاج، انتخابی بے امنی کے خدشات

07:07 PM, 19 Dec, 2025

ڈھاکا : بنگلہ دیش کے ایک مشہور نوجوان سیاسی رہنما، شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ڈھاکا اور دیگر شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، اور پولیس و نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے مزید بے امنی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ ہادی انتخابات میں امیدوار تھے۔

جمعہ کی صبح شہر میں حالات نسبتاً پرسکون رہے، لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد مزید تشدد اور مظاہروں کا امکان ہے۔ 32 سالہ ہادی انقلاب منچہ کے ترجمان تھے اور حکومت کے خلاف احتجاج میں سرگرم رہے۔ انہیں گزشتہ جمعہ کو ڈھاکا میں انتخابی مہم کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ انہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں سنگاپور لے جایا گیا، جہاں وہ چھ دن تک زندگی کے لیے جدوجہد کرنے کے بعد دم توڑ گئے۔

ہادی کی موت کے بعد ملک بھر میں غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بڑے اخبار پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین ہادی کے نام پر جذباتی نعرے لگا رہے تھے اور فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ڈھاکا سمیت کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی، اور حکومت نے مزید پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا۔ فائر سروس نے اطلاع دی کہ دی ڈیلی اسٹار کی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، اور فوجی دستوں نے صحافیوں کو عمارت سے باہر نکالا۔

ہادی کی ہلاکت کے بعد، عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کو ملک کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے عوام سے تحمل کی اپیل کی اور یقین دلایا کہ حکومت ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات کرے گی۔

یونس نے مزید کہا کہ تشدد کے بڑھنے سے ملک میں قابل اعتبار انتخابات کا انعقاد مشکل ہو سکتا ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہادی کے اعزاز میں ہفتے کو یومِ سوگ کا اعلان کیا، اور پورے ملک میں خصوصی دعائیں منعقد کرنے کی ہدایت کی۔

ہادی کی ہلاکت کے بعد بھارت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شدت آئی ہے۔ گزشتہ دنوں جولائی اوئیکیا کے نام سے سینکڑوں مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کی جانب مارچ کیا اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔ ان مظاہروں میں شیخ حسینہ کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

یہ تازہ بے امنی اس وقت شروع ہوئی جب شیخ حسینہ بھارت فرار ہو گئیں، اور دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ہادی کی ہلاکت نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
 
 

مزیدخبریں