عالمی ادارہ صحت نے کورونا کی نئی اقسام سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کر دیا

عالمی ادارہ صحت نے کورونا کی نئی اقسام سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کر دیا


جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے  کورونا کے حالیہ ویرینٹ اومیکرون سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی اور کورونا کی نئی اقسام سامنے آنے کا بھی خدشہ ظاہر کر دیا۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اومیکرون کو  کورونا وائرس کی پہلے سامنے آنیوالی اقسام کی نسبت کم خطرناک تصور کرنے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے  کہ  عالمی وباکا دنیا سے خاتمہ فی الوقت کہیں قریب نظر نہیں آرہا۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ وبائی مرض کہیں بھی ختم نہیں ہوا ہے اور نہ مستقبل قریب میں جلد ختم ہونے کے اثرات ہیں۔انہوں نے کورونا وائرس کی جنوبی افریقہ سے سامنے آنیوالی نئی قسم  اومیکرون کو کم خطرناک سمجھنے سے بھی خبردار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ اومیکرون پہلے آنیوالے ویرینٹ کی نسبت کم سنگین بیماری کا باعث بنتا ہے تاہم اومیکرون کا پھیلاؤ گزشتہ اقسام کے مقابلے میں کئی گنا تیز ہے۔


عالمی ادارہ صحت نےمتنبہ کیا کہ اومیکرون کے بڑی تعداد میں کیسز سامنے آنے سے کئی ایسے افراد جو کمزور ہیں یا کم قوت مدافعت رکھتے ہیں وہ شدید بیمار یا موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے اومیکرون کو اوسطاً کم خطرناک تصور کرنے کے بیانیے کو بھی گمراہ کن قرار دیا۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے وائرس کے دنیا سے جلد خاتمے  کے  امکانات کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ اومیکرون کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے  بعد  کورونا کی مزید نئی اقسام سامنے آنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں