لندن : عالمی سطح پر اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے بیچ، بات چیت کے ذریعے حل کی کوششیں جاری ہیں۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق، یورپی وزرائے خارجہ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا آغاز جمعہ کو جنیوا میں ہوگا۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ ان مذاکرات میں شریک ہوں گے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس بات چیت کا حصہ ہوں گے۔
ان مذاکرات میں امریکہ کی رضا مندی بھی شامل ہے، جو اس بات کا غماز ہے کہ عالمی سطح پر اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہش بڑھ رہی ہے۔ عباس عراقچی نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران جارحیت کے خلاف فخر اور بہادری سے اپنا دفاع کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ دشمن اپنی سنگین غلطی کی قیمت ادا کرے گا اور یہ کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ اپنے دفاع میں کارروائی کرتا ہے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ عباس عراقچی نے امریکی اور اسرائیلی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کا ارادہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایران واقعی ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا تو اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہوتا جب اسرائیل ایران پر کھلی جارحیت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ صرف اپنے دفاع میں اقدامات کر رہا ہے اور اس کے دفاعی اقدامات کا مقصد کسی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ دنیا کو اسرائیل کی جانب سے تنازع کو مزید بڑھانے کی کوششوں پر گہری تشویش ہونی چاہیے۔ ان کے بیان کو ایران کی موجودہ پالیسی کا واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے، جو کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔